رقص کرتی ہے گردشِ دوراں
در کھلے ہیں شراب خانوں کے
چائے پینے کو اب کہاں جائیں
بند ہوٹل ہوئے پٹھانوں کے
رقص کرتی ہے گردشِ دوراں
در کھلے ہیں شراب خانوں کے
چائے پینے کو اب کہاں جائیں
بند ہوٹل ہوئے پٹھانوں کے
There is a Bengali boy, Jahangir, who works in my father’s workshop at the back of our house. He lives here and sometimes he does some kitchen chores also. Yesterday, he made tea. I had a cold recently which became the cause of the following conversation:
جہانگیر: چائے نکال دوں؟
میں: تھوڑی دیر میں۔
جہانگیر: جوس انڈا ڈالنا ہے؟
میں[گھبرا کر]: جوس انڈا؟
جہانگیر: جوسانڈا۔
میں: جوشاندہ؟
جہانگیر: ہاں۔
Recent Comments