Hoping to be human someday!

Mo’jza-e-Husain (A.S.)

Wednesday, December 30th, 2009

On the 10th of Muharram, 1431 AH, 2009, more than 40 of my Azadar brothers lost their lives to a suicide bombing in the Ashurah procession to commemorate the martyrdom of Imam Husain (A.S.) and His companions (A.S.).

Here is a first hand account of my friend’s relative who was at the blast site:

I was standing on the foot path, across the road where the blast happened. When it did, I was knocked down and for five minutes I lost all my senses and lay there. When I got up, all was dark.

Now watch the footage below.

Can you see any of the Alam-bearers fall, right ahead of the blast site? None fell, no Ziarat was martyred. When people were knocked off their feet by the blast wave, why didn’t the Alam-bearers, holding Alams well above 15 feet in length, fall?

And the procession continued on with it’s journey with a stronger will.

This is what happens when you mess with Azadars. Our resolve to mourn the Martyrs of Karbala (A.S.) strengthens, even if it means certain death!

Chahay jitna bhi zulm ho jaaye, Maatam-e-Husain (A.S.) nahin rukay ga!

Kar lo jo karna hai…

Wird-e-Dervaish

Friday, September 11th, 2009

Shahid Baltistani – Wird-e-Dervaish

WARNING: It’s a Nauha.


Ash-Shaam! Ash-Shaam! Ash-Shaam!

Thursday, January 29th, 2009

Minhaal, a sahabi of Ali ibnul Husain (Syed-e-Sajjad), came to him and asked him where he had faced the most hardships, during Karbala and it’s aftermath.

He replied “Ash-Shaam! Ash-Shaam! Ash-Shaam!” (Syria! Syria! Syria!)

Minhaal then asked him why he cried so much. After all, martyrdom was the destiny and inheritance of Aal-e-Muhammad (S.A.W.W.).

Syed-e-Sajjad then replied, “You have not done justice to us. Is it also our destiny that our mothers and sisters be paraded bare-headed through bazaars and streets, with crowds watching?”

This event is explained by Rehaan Aazmi and Nadeem Sarwar in the video below. Rehaan Aazmi has done a marvelous job of capturing Syed-e-Sajjad’s answer in verses.

This video was embedded using the YouTuber plugin by Roy Tanck. Adobe Flash Player is required to view the video.

Guzra Hai Koi Aisa Saabir-o-Aabid?

Friday, January 23rd, 2009

اگر اللّھ ہم اہلِبیت[ع] کی دشمنی کا حکم قرآن میں دیتا
تب بھی ہم پہ اتنے ظلم نہ ہوتے
جتنے ہماری مَوَدّت واجب ہونے کے بعد ہم پہ ہوئے

علی ابن الحسین

اسیرِ کربلا، آدمِ آلِ محمد، فرزندِ حسین، علی ابن الحسین زین العابدین جس نے اپنے پورے خاندان کے قتل کئے جانے پر خدا کا شکر ادا کیا اَور خاکِ کربلا پر ایسا طویل طرین سجدہ کیا کہ شام کا سجدہ فجر سے ملا دیا۔ مائوں، بہنوں اَور بیٹیوں کے پردے چھننے کے بعد غیرت کے اس خدا کے بال غم و شرمندگی سے سفید ہوگئے اَور چوبیس برس کا جگرگوشئہِ رسولِ خدا ایک رات میں بوڑھا ہو گیا۔

ایک سال کی اسیری کے بعد پچیس سال کا یہ جوان کبھی سیدھا کھڑا نہ ہو پایا۔ ہاتھوں کا، پائووں کا اور گلےکا گوشت وزنِ طوقِ گراں بار اور بیڑیوں ہتھکڑیوں کی وجہ سے گل چکا تھا اور ہڈیاں نظر آتی تھیں۔ پوری زندگی اپنے گھر کے کٹ جانے پر رو کے گزار دی پر کبھی خدا سے شکوہ نہیں کیا۔ عبادت کا یہ عالم کہ سیّد السّاجدین اور زین العابدین کے القاب ملے۔

آدمِ آلِ محمد کا لقب اس لئے پایا کہ رسول کا گھرانہ جو کربلا میں کٹ گیا، اُس کو پھر اسی جوان نے بسایا اور ایسا بسایا کہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جتنا قتلِ عام رسول کی اولاد [سادات] کا ہوا ہے اتنا کسی اور کی اولاد کا نہیں ہوا اور وہ بھی رسول کی اپنی اُمّت کے ہاتھوں۔ عبّاسی بادشاہ منصورِ دوعنقی نے جب بغداد شہر تعمیر کرایا تو ہر دیوار میں ایک سیّد زادے کو زندہ چنا گیا۔ لیکن آج بھی یہ نسل جاری و ساری ہے، کوئی اسے مٹا نہ سکا۔ یہ ہے سورۃ کوثر کی تفسیر۔

حسین کے اس بیٹے اور رسول و علی کے اس پوتے کو ولید بنِ عبدالملک نے ۲۵ محرم الحرام، ۹۵ھ کو  بے خطا زہر دے کر شہید کرا دیا۔ ظلم کی تاریخ کا ایک اور صفحہ رقم ہوا اور اولادِ رسول کا ایک اور باب بند ہوگیا۔

یعقوب یوسف کو پوری عمر روتے رہے یہاں تک کہ آنکھیں ضائع ہو گئیں۔ پھر بھی خدا سے شکوہ نہ کیا۔ خدا نے یعقوب کے اس عمل کو قرآن میں “صبرِ جمیل” کہا ہے۔ لیکن جس کے خاندان کے اٹھارہ یوسف اس کی آنکھوں کے سامنے کاٹ ڈالے جائیں، اس کے گھر کی عورتوں کو بے پردہ کرکے بازاروں میں پھرایا جائے اور اسیر کیا جائے، قیدخانے میں چھوٹی بہن مر جائے اور اس کے دفن کا سامان نہ ہو، اور وہ پوری زندگی ایک زندہ لاش کی طرح گزار دے، رونے اور عبادت کے سوا کچھہ کام نہ ہو لیکن ہر ظلم، ہر ستم پر شکرِ الٰہی میں سجدہ بجا لائے۔ ایسا کون رہا ہے دنیا میں سوا ایک کے؟ جو عابدوں کی زینت ہو اور سجدہ کرنے والوں کا سردار ہو۔ جس کا نام علی ابن الحسین ہے۔

گزرا ہے دنیا میں کوئی ایسا مشکورِ خدا؟ جس نے توحید کی گواہی اپنی مظلومیت سے دی؟

Allah Buhat Bara Hai!

Tuesday, January 20th, 2009

سب نے یہی کہا ہے اللّھ بہت بڑا ہے
قرآن میں لکھا ہے اللّھ   بہت  بڑا ہے

ہر حد سے ماورا ہے اللّھ بہت بڑا ہے

یہ مہر و ماہ و انجم، دریائوں میں  طلاطم
چلتی   ہوئی   ہوائیں ،   آواز   کا     ترنّم
خوش  رنگ  طائروں کا  پھیلا ہوا  طبسّم
ترتیب وار غنچے جیسے کہ رشکِ انجم

یہ کْن کا معجزہ ہے، اللّھ بہت بڑا ہے

مٹی کے پیکروں میں تحریک   ڈالتا  ہے
سوئے فلک  زمیں سے تارے اچھالتا ہے
پاتال   سے  جواہر  وہ   ہی   نکالتا   ہے
پروردگار وہ  ہے  ،   دنیا  کو  پالتا   ہے

ہر حد سے ماورا ہے اللّھ بہت بڑا ہے

کونین میں عیاں  ہے  یارب  جو  نور  تیرا
ہے تاب کس نظر میں ، دیکھے ظہور تیرا
تسبیح خواں  ہم  کیا ،  ہے  کوہِ طور  تیرا
جس  کو بہی مل گیا ہے  مولا شعور  تیرا

وہ مصطفٰی ہوا ہے، اللّھ بہت بڑا ہے

تو   باکمال    جیسا  ،   ویسے    تیرے   پیمبر
سب تیرے مدح خواں ہیں، سب ہی تِرے ثناء گر
کیا   بادشاہ  و  قدسی   ،   کیا   مفلس  و  گداگر
ان   ساری   ہستیوں   میں   وہ   آمنہ   کا   دلبر

وہ بھی تو لب کشا ہے، اللّھ بہت بڑا ہے

قوسین  کی  تھی منزل ،  حیران انبیاء  تھے
جبرئیل رک گئے تھے اِک  مرحلے پہ آکے
رستے   بنائے   تو  نے  پردے  ہٹا ہٹا  کے
معراج  پر  محمد  پہنچے  تِری  رضا  سے

اِک شور گونجتا ہے، اللّھ بہت بڑا ہے

اللّھ   کی  بڑائی  یوں  تو  سبھی  نے  کی  ہے
لیکن   جو   کربلا   کی   تاریخ     بولتی    ہے
نوکِ سناں  سے رب  کی  توثیق  ہو چکی  ہے
تکبیر   زیرِ خنجر    شبّیر    نے    کہی     ہے

مظلوم کی سدا ہے، اللّھ بہت بڑا ہے

کس  نے  کیا  ہے  سجدہ   خنجر  تلے جہاں   میں؟
کانٹے پڑے   ہوئے تھے جب  پیاس  سے زباں  میں
جب   آگ   لگ  رہی  تھی   زہرا کے گلستاں   میں
چھپ  چھپ کے چاند تارے روتے تھے آسماں میں

مولا نے تب کہا ہے، اللّھ بہت بڑا ہے

کیا      نفسِ  مطمئنہ      سجّاد     نے     تھا     پایا
اِک اِک ستم  پہ جس  نے سجدے  میں  سر  جھکایا
طوقِ گراں   پہں   کر   شکوہ   نہ    لب   پہ    لایا
کنبے   کو   اپنے   لیکر   تا   شام   تھا    جو    آیا

ہر گام پر کہا ہے’ اللّھ بہت بڑا ہے

سینے پہ برچھی کھا کے اکبر نے یہ صدا دی
یہ  آخری   ہے  منزل  خوشنودیءِ  خدا   کی
خاکِ شفا   بنا   دی   کرب و بلا   کی    مٹی
بولے   ریحان و سرور    تاریخِ کربلا    بھی

مولا نے سچ کہا ہے’ اللّھ بہت بڑا ہے

Selected verses from Nadeem Sarwar’s “Allah Buhat Bara Hai”.

Written by Rehan Aazmi.