Posted on January 23, 2009 by

Guzra Hai Koi Aisa Saabir-o-Aabid?

اگر اللّھ ہم اہلِبیت[ع] کی دشمنی کا حکم قرآن میں دیتا
تب بھی ہم پہ اتنے ظلم نہ ہوتے
جتنے ہماری مَوَدّت واجب ہونے کے بعد ہم پہ ہوئے

علی ابن الحسین

اسیرِ کربلا، آدمِ آلِ محمد، فرزندِ حسین، علی ابن الحسین زین العابدین جس نے اپنے پورے خاندان کے قتل کئے جانے پر خدا کا شکر ادا کیا اَور خاکِ کربلا پر ایسا طویل طرین سجدہ کیا کہ شام کا سجدہ فجر سے ملا دیا۔ مائوں، بہنوں اَور بیٹیوں کے پردے چھننے کے بعد غیرت کے اس خدا کے بال غم و شرمندگی سے سفید ہوگئے اَور چوبیس برس کا جگرگوشئہِ رسولِ خدا ایک رات میں بوڑھا ہو گیا۔

ایک سال کی اسیری کے بعد پچیس سال کا یہ جوان کبھی سیدھا کھڑا نہ ہو پایا۔ ہاتھوں کا، پائووں کا اور گلےکا گوشت وزنِ طوقِ گراں بار اور بیڑیوں ہتھکڑیوں کی وجہ سے گل چکا تھا اور ہڈیاں نظر آتی تھیں۔ پوری زندگی اپنے گھر کے کٹ جانے پر رو کے گزار دی پر کبھی خدا سے شکوہ نہیں کیا۔ عبادت کا یہ عالم کہ سیّد السّاجدین اور زین العابدین کے القاب ملے۔

آدمِ آلِ محمد کا لقب اس لئے پایا کہ رسول کا گھرانہ جو کربلا میں کٹ گیا، اُس کو پھر اسی جوان نے بسایا اور ایسا بسایا کہ پوری دنیا میں پھیل گیا۔ تاریخ گواہ ہے کہ جتنا قتلِ عام رسول کی اولاد [سادات] کا ہوا ہے اتنا کسی اور کی اولاد کا نہیں ہوا اور وہ بھی رسول کی اپنی اُمّت کے ہاتھوں۔ عبّاسی بادشاہ منصورِ دوعنقی نے جب بغداد شہر تعمیر کرایا تو ہر دیوار میں ایک سیّد زادے کو زندہ چنا گیا۔ لیکن آج بھی یہ نسل جاری و ساری ہے، کوئی اسے مٹا نہ سکا۔ یہ ہے سورۃ کوثر کی تفسیر۔

حسین کے اس بیٹے اور رسول و علی کے اس پوتے کو ولید بنِ عبدالملک نے ۲۵ محرم الحرام، ۹۵ھ کو بے خطا زہر دے کر شہید کرا دیا۔ ظلم کی تاریخ کا ایک اور صفحہ رقم ہوا اور اولادِ رسول کا ایک اور باب بند ہوگیا۔

یعقوب یوسف Ú©Ùˆ پوری عمر روتے رہے یہاں تک کہ آنکھیں ضائع ہو گئیں۔ پھر بھی خدا سے شکوہ نہ کیا۔ خدا Ù†Û’ یعقوب Ú©Û’ اس عمل Ú©Ùˆ قرآن میں “صبرِ جمیل” کہا ہے۔ لیکن جس Ú©Û’ خاندان Ú©Û’ اٹھارہ یوسف اس Ú©ÛŒ آنکھوں Ú©Û’ سامنے کاٹ ڈالے جائیں، اس Ú©Û’ گھر Ú©ÛŒ عورتوں Ú©Ùˆ بے پردہ کرکے بازاروں میں پھرایا جائے اور اسیر کیا جائے، قیدخانے میں چھوٹی بہن مر جائے اور اس Ú©Û’ دفن کا سامان نہ ہو، اور وہ پوری زندگی ایک زندہ لاش Ú©ÛŒ طرح گزار دے، رونے اور عبادت Ú©Û’ سوا کچھہ کام نہ ہو لیکن ہر ظلم، ہر ستم پر شکرِ الٰہی میں سجدہ بجا لائے۔ ایسا کون رہا ہے دنیا میں سوا ایک Ú©Û’ØŸ جو عابدوں Ú©ÛŒ زینت ہو اور سجدہ کرنے والوں کا سردار ہو۔ جس کا نام علی ابن الحسین ہے۔

گزرا ہے دنیا میں کوئی ایسا مشکورِ خدا؟ جس نے توحید کی گواہی اپنی مظلومیت سے دی؟